مردوں کے لیے باحیا لباس کیا ہے
مردوں کے لیے باحیا لباس کوئی ایک مقررہ وردی نہیں بلکہ ایسے ملبوسات کا مجموعہ ہے جو حیا کے اصولوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔ بیشتر بیانات میں ناف سے گھٹنوں تک کے حصے کو ڈھانپنے اور بھڑکیلے یا نمائشی لباس سے بچنے پر زور دیا جاتا ہے۔ تفصیلات میں فقہی مکاتب اور گروہوں کی تعبیرات مختلف ہیں۔
اس طرح ایک مرد لمبی قمیض اور شلوار بھی پہن سکتا ہے اور پتلون اور قمیص بھی۔ پائنچوں کی لمبائی یا ریشم اور سونے کے استعمال جیسے مسائل میں رائے تقسیم ہے، اور ان کے جواب کے لیے اپنے علاقے کے کسی معتبر عالم دین سے پوچھنا چاہیے۔ یہ تحریر دینی احکام جاری نہیں کرتی۔
پاکستان میں زیادہ تر مرد روزمرہ زندگی میں شلوار قمیض یا عام مغربی لباس پہنتے ہیں، جبکہ جمعہ، عید اور دینی محفلوں کے لیے زیادہ سلیقے والے ملبوسات رکھتے ہیں۔
شلوار قمیض، کرتا، واسکٹ اور شیروانی
شلوار قمیض پاکستانی مردوں کا سب سے مقبول لباس ہے۔ قمیض گھٹنوں تک یا اس سے نیچے ہوتی ہے اور شلوار کھلی ہوتی ہے۔ کرتا اور پاجامہ اسی لباس کی ہلکی اور کھلی صورت ہے۔ واسکٹ سردیوں اور رسمی مواقع پر اوپر پہنی جاتی ہے، جبکہ شیروانی شادی اور سرکاری تقریبات کا باوقار لباس ہے۔
عرب ممالک کا تھوب یا دشداشہ، شمالی افریقہ کی جبہ اور جلابیہ بھی کچھ دکانوں میں ملتی ہیں اور حج و عمرہ سے لوٹنے والے اکثر انہیں اپناتے ہیں۔ پشاور اور پنجاب میں پٹھانی سوٹ، سندھ میں اجرک اور سندھی ٹوپی، چترال میں پکول اور بلوچستان میں لمبی قمیض اور بڑی شلوار کے اپنے اپنے انداز ہیں۔
- شلوار قمیض: روزمرہ اور رسمی دونوں مواقع کا بنیادی لباس۔
- کرتا پاجامہ: ہلکا اور کھلا انداز، گرمیوں میں آرام دہ۔
- واسکٹ اور شیروانی: سردی اور رسمی تقریبات کے لیے۔
- ٹوپی، پگڑی اور پکول: سر ڈھانپنے کے علاقائی انداز۔
جناح کیپ ایک مخصوص ٹوپی ہے جو سرکاری تقریبات میں پہنی جاتی ہے، جبکہ نماز کی سفید یا کروشیا ٹوپی مسجد میں عام ہے۔
گرمی، سردی اور برسات کے لیے کپڑا
پاکستان میں موسم شدید ہو سکتا ہے۔ سندھ اور جنوبی پنجاب میں گرمی نمی کے ساتھ تکلیف دیتی ہے، شمالی علاقوں میں برف باری ہوتی ہے، اور برسات میں راستے کیچڑ سے بھر جاتے ہیں۔ اسلامی لباس میں کپڑے کا انتخاب موسم کے مطابق ہونا چاہیے۔
گرمیوں میں کاٹن، لان اور واش اینڈ ویئر کے ہلکے کپڑے آرام دیتے ہیں اور سفید و روشن رنگ گرمی کم جذب کرتے ہیں۔ جاڑوں میں کھدر، اونی شال، بوسکی اور لینن کے کپڑے کے ساتھ واسکٹ یا کوٹ کام آتا ہے۔ نیچے ایک گرم بنیان پہننے سے گرمی برقرار رہتی ہے۔
برسات میں لمبی قمیض کے پائنچے کیچڑ سے بچانے کے لیے شلوار کے پائنچے ٹخنوں سے ذرا اوپر رکھے جا سکتے ہیں۔ موٹر سائیکل چلانے والے مردوں کے لیے ہوا میں اڑنے والی لمبی قمیض کو مضبوطی سے اندر دبانا یا چھوٹی قمیض پہننا زیادہ محفوظ ہے۔
دفتر، تعلیم اور کھیل کے لیے سادہ لباس
دفتروں میں بہت سے مرد قمیض اور پتلون یا شلوار قمیض پہنتے ہیں۔ سادہ لباس کے لیے کھلی تراش، مناسب لمبائی کی پتلون اور جسم سے چپکی نہ ہونے والی قمیص اہم ہیں۔ بہت سے لوگ گہرے رنگ کی پتلون اور کالر والی قمیص کو ترجیح دیتے ہیں جو دفتر اور کالج دونوں میں موزوں رہتی ہے۔
بعض پیشوں میں حفاظت یا صفائی کے لیے مخصوص یونیفارم لازمی ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں انتظامیہ سے ابتدا ہی میں بات کر لینا بہتر ہے، مثلاً نماز کے وقفے یا شلوار یا پتلون کے انتخاب کے بارے میں۔
کھیل کے لیے لمبی ٹریک پینٹ اور سانس لینے والی ٹی شرٹ مناسب ہیں۔ کرکٹ اور فٹ بال کھیلنے والے بہت سے نوجوان گھٹنوں کو ڈھانپنے والی کھلی نیکر یا ٹریک پینٹ پہنتے ہیں۔ تیراکی کے لیے بعض مرد گھٹنوں تک کے شارٹس کو ترجیح دیتے ہیں؛ پول کے قواعد پہلے معلوم کر لیں۔
جمعہ کی نماز اور مسجد
جمعہ کی نماز بہت سے مردوں کے لیے بہترین لباس پہننے کا دن ہے۔ روایت صاف ستھرے کپڑوں اور بغیر الکحل کی خوشبو کی ترغیب دیتی ہے۔ بہت سے لوگ سفید شلوار قمیض اور ٹوپی پہنتے ہیں، کچھ واسکٹ کا اضافہ کرتے ہیں، اور شہروں میں دفتر سے براہ راست آنے والے مرد بھی نظر آتے ہیں۔
نماز کا لباس زیادہ تر مکاتب کے نزدیک صاف اور کافی حد تک ڈھانپنے والا ہونا چاہیے۔ بعض علما ٹخنوں سے اوپر شلوار رکھنے پر زور دیتے ہیں اور بعض اسے لازمی نہیں سمجھتے۔ آپ جس عالم پر اعتماد کرتے ہیں اس سے پوچھ لیں۔
جوتے مسجد کے دروازے پر اتارے جاتے ہیں، لہٰذا ایسی چپل جو آسانی سے اترے اور پہچانی جائے، عملی ہے۔ سردی میں قمیض کے نیچے گرم بنیان لمبے خطبے کو آسان بناتا ہے۔
مردانہ اسلامی لباس کہاں سے لیں
پاکستان کے ہر شہر میں کپڑے کی دکانیں اور درزی موجود ہیں۔ لاہور، کراچی، راولپنڈی اور پشاور کے پرانے بازار کپڑا، شلوار قمیض کے سوٹ، واسکٹ اور ٹوپیاں فروخت کرتے ہیں، اور آن لائن اسٹور بھی ملک بھر میں سامان بھیجتے ہیں۔ بہت سے مرد کپڑا خرید کر اپنی پسند کے ناپ پر سلواتے ہیں۔
انٹرنیٹ سے منگواتے وقت اپنے حقوق کے لیے ملک میں صارفین کے تحفظ کے قوانین اور عدالتی فورم دستیاب ہیں۔ ناپ کا چارٹ، کپڑے کی ساخت اور واپسی کی شرائط دیکھیں، اور یاد رکھیں کہ کاٹن پہلی دھلائی میں سکڑ سکتی ہے۔
نیوٹرل رنگوں کے کچھ سوٹ خرید لینا سمجھداری ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ ملائے جا سکیں۔ دو تین سوٹ، ایک واسکٹ اور ایک لمبا کوٹ کئی انداز بنانے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔
عید، شادی اور حج
عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ پر زیادہ تر مرد نیا شلوار قمیض سوٹ سلواتے ہیں۔ عید کی نماز کے بعد گلے ملنے اور مہمان داری کا رواج ہے، اور بچوں کو عیدی دی جاتی ہے۔ رنگوں کے بارے میں کوئی ایک اصول نہیں، البتہ سفید، کریم اور ہلکے رنگ زیادہ مقبول ہیں۔
شادی میں دولہا عموماً شیروانی یا کڑھائی والا کرتا اور پگڑی یا کلاہ پہنتا ہے، اور مہمان واسکٹ کے ساتھ شلوار قمیض یا سوٹ پہنتے ہیں۔
حج اور عمرہ میں مرد احرام باندھتے ہیں، دو بغیر سلی سفید چادریں۔ یہ روزمرہ لباس نہیں بلکہ مناسک کی خاص حالت ہے۔ پاکستانی حاجی اسے عموماً ٹور آپریٹر یا حج سے متعلق دکانوں سے لیتے ہیں۔
رنگ، سلائی اور دیکھ بھال
سفید رنگ نماز کے لیے پسند کیا جاتا ہے، جبکہ روزمرہ میں سرمئی، بھورا، نیلا اور کریم عام ہیں۔ بعض خطوں میں گہرے اور شوخ رنگ تقریبات کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ کالر اور کف کی کڑھائی ذاتی پسند کی بات ہے۔
اچھی سلائی میں کالر، بٹن اور پٹی کا خیال رکھیں اور درزی سے ناپ لیتے وقت قمیض اور شلوار کے گھیر کی کھلی مقدار طے کر لیں۔ سفید کپڑوں کو الگ دھوئیں، داغ فوراً صاف کریں، اور کڑھائی کو الٹی طرف سے استری کریں۔
لمبے ملبوسات کو ہینگر پر لٹکائیں تاکہ شکن نہ پڑیں، اور بارش سے بھیگے ہوئے کپڑوں کو الماری میں رکھنے سے پہلے اچھی طرح سکھا لیں تاکہ بو نہ آئے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
شلوار قمیض اور کرتا پاجامہ میں کیا فرق ہے؟
شلوار قمیض میں قمیض کے ساتھ کھلی شلوار ہوتی ہے، جبکہ کرتا پاجامہ زیادہ ہلکا اور سیدھا کٹ ہوتا ہے اور پاجامہ عموماً تنگ یا سیدھا ہوتا ہے۔ دونوں باحیا لباس کے طور پر پہنے جاتے ہیں۔ کٹ، کپڑا اور کڑھائی علاقے کے لحاظ سے بدلتی ہے۔
گرمیوں میں کون سا لباس آرام دہ رہتا ہے؟
کاٹن، لان اور ہلکا واش اینڈ ویئر گرمی میں آرام دیتے ہیں، اور سفید یا ہلکے رنگ دھوپ سے بچاتے ہیں۔ کھلا کرتا پاجامہ ہوا گزرنے دیتا ہے۔ موٹے مصنوعی کپڑوں سے پرہیز بہتر ہے، خاص طور پر جمعہ کی بھیڑ میں۔
کیا پتلون اور قمیص بھی اسلامی لباس شمار ہو سکتی ہے؟
جی ہاں، بہت سے مرد ایسا کرتے ہیں۔ کھلی پتلون اور قمیص اپنے اصولوں کے عین مطابق ہو سکتی ہے۔ پائنچوں کی لمبائی جیسی تفصیلات میں علما کی رائے مختلف ہے، اس لیے کسی مستند عالم سے پوچھ لیں۔
شیروانی کب پہنی جاتی ہے؟
شیروانی عموماً شادی، عید کی بڑی تقریبات اور سرکاری یا رسمی مواقع پر پہنی جاتی ہے۔ یہ لمبا، بند گلے کا کوٹ ہے جو شلوار یا چوڑی دار پاجامے کے ساتھ پہنا جاتا ہے۔ روزمرہ کے لیے اس کا استعمال کم ہے۔
